maana keh zindagi se hamen kuch mila bhi hai by iqbal azeem ‎مانا کہ زندگی سے ہمیں کچھ ملا بھی ہے از اقبال عظیم

ﻣﺎﻧﺎ ﮐﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﮟ
ﮐﭽﮫ ﻣﻼ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ
ﺍﺱ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ بہت ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ

محسوس ہورہا ہے کہ تنہا نہیں ہوں میں
شاید کہیں قریب کوئی دوسرا بھی ہے

ﻗﺎﺗﻞ ﻧﮯ ﮐﺲ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﺳﮯ
ﺩﮬﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﺁﺳﺘﯿﮟ
ﺍُﺱ کو خبر نہیں کہ لہو بولتا بھی ہے

غرقاب کر دیا تھا ہمیں ناخدا نے آج
وہ تو کہو کہ ایک ہمارا خدا بھی ہے

ساقی خفا ہے مجھ سے یہ معلوم ہے مجھے
لیکن وہ میرے ظرف کو پہچانتا بھی ہے

اے قافلے کے لوگو! ذرا جاگتے رہو
سنتے ہیں قافلے میں کوئی رہنما بھی ہے

ﮨﻢ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﻧﮧ
ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﻋﻼﺝ
ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ، ﭼﺮﺍﻍ
ﺑﮭﯽ ﮨﮯ، ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ

ہو تو رہی ہے کوشش آرائش چمن
لیکن چمن غریب میں اب کچھ رہا بھی ہے

یہ حسن اتفاق ہے یا حسن اہتمام
ہے جس جگہ فرات وہیں کربلا بھی ہے

اقبال شکر بھیجو کہ تم دیدہ ور نہیں
دیدہ وروں کو آج کوئی پوچھتا بھی ہے

اقبال عظیم

Advertisements

Published by

Raheem Baloch

www.facebook.com/rjrah33m

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s