Nawa e benawa koi nahi hai by pirzada aashiq keeranvi ‎نوائے بے نوا کوئی نہیں ہے از عاشق کیرانوی

نوائے بے نوا کوئی نہیں ہے
مگر دل بے صدا کوئی نہیں ہے

یہاں پر بے خطا کوئی نہیں ہے
مگر اس کی سزا کوئی نہیں ہے

ترے نقش قدم پر چل رہے ہیں
ہمارا نقش پا کوئی نہیں ہے

بلاؤں پر بلائیں آ رہی ہیں
مگر سر پر ردا کوئی نہیں ہے

بس اتنی ہے جہاں سے آشنائی
ہمارا آشنا کوئی نہیں ہے

سوئے دار بقا سب جارہے ہیں
رہ بزم فنا کوئی نہیں ہے

چھپی ہیں بدلیاں بھی بادلوں میں
اندھیرا بے ضیا کوئی نہیں ہے

ہر اک منظر ہے دنیا کی نظر میں
مگر اپنا پتا کوئی نہیں ہے

وہی ہے خارزار کوئے جاناں
ستارہ زیر پا کوئی نہیں ہے

انہی کی ذات کے اندر خلا ہے
جو کہتے ہیں خدا کوئی نہیں ہے

جو ہیں افعال اپنے رہبروں کے
چھپے ہیں سب چھپا کوئی نہیں ہے

کوئی ٹھہرے کہاں عاشق جہاں میں
یہاں مہماں سرا کوئی نہیں ہے

پیرزادہ عاشق کیرانوی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s