Jis fasaane ko na kaghaz pe qalam ne likha by shayar lakhnawi ‎جس فسانے کو نہ کاغذ پہ قلم نے لکھا از شاعر لکھنوی

جس فسانے کو نہ کاغذ پہ قلم نے لکھا
در زنداں پہ لہو سے اسے ہم نے لکھا

تھی جدا صورت تحریر مگر نام تھا ایک
دیر نے بھی وہی لکھا جو حرم نے لکھا

سر ہوئے تن سے جدا جبر کے معماروں کے
تیغ بھی لکھ نہ سکی وہ جو قلم نے لکھا

کچھ نہ تھا دامن قرطاس میں پھولوں کے سوا
جب کبھی ان کی طرف دیکھ کے ہم نے لکھا

قافلے پڑھ کے اسے آئے ہیں منزل کے قریب
رہ گزر پر جو مرے نقش قدم نے لکھا

عشق بے نام زباں میں وہ فسانہ ہے جسے
خشک آنکھوں نے پڑھا دیدہ ء نم نے لکھا

رات بھی صبح کی تعریف میں وہ لکھ نہ سکی
تیرے رخ پر جو تری زلف کے خم نے لکھا

تاب اظہار کی ہر ایک کے حصے میں کہاں
سب نے محسوس کیا درد کو ہم نے لکھا

پڑھ سکا دل کے سوا کوئی نہ اس کو شاعر
وہ نوشتہ جو کسی چشم کرم نے لکھا

شاعر لکھنوی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s