aik baar hi jee bhar ke saza kyun nahi dete by murtaza burlass ‎ایک بار ہی جی بھر کے سزا کیوں نہیں دیتے از مرتضی برلاس

ایک بار ہی جی بھر کے سزا کیوں نہیں دیتے
گر حرف غلط ہوں تو مٹا کیوں نہیں دیتے

ایسے ہی مونس و غمخوار ہو میرے
یارو مجھے مرنے کی دعا کیوں نہیں دیتے

اب شدت غم سے مرا دم گھٹنے لگا ہے
تم ریشمی زلفوں کی ہوا کیوں نہیں دیتے

فردا کے دھندلکوں میں مجھے ڈھونڈنے والو
ماضی کے دریچوں میں صدا کیوں نہیں دیتے

موتی ہوں تو سوزن مژگاں سے پرو لو
آنسو ہوں تو دامن پہ گرا کیوں نہیں دیتے

سایہ ہوں تو پھر ساتھ نہ رکھنے کا سبب کیا
پتھر ہوں تو رستے سے ہٹا کیوں نہیں دیتے

مرتضی برلاس

Advertisements

Published by

Raheem Baloch

www.facebook.com/rjrah33m

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s